مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے کے اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار عبد الباری عطوان نے ایک مضمون میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر نے ظاہر کر دیا کہ وہ ’’ایران‘‘ نامی ایک ذہنی اور جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں؛ وہی بیماری جس کا بنیامین نیتن یاہو، صیہونی حکومت کے وزیراعظم، بھی شکار ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ناکام جنگ، جس میں ان کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکا، اس تقریر کا واحد موضوع تھی، جبکہ دنیا کے تقریباً تمام دیگر مسائل، جن میں یوکرائن کی جنگ، عالمی معیشت کی صورت حال اور امریکہ کی اندرونی کشیدہ صورت حال شامل ہیں، نظر انداز کردی گئیں۔
عطوان نے افتتاحی تقریب میں ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی التجا، آخری لمحات میں ایرانی وفد کے لیے ویزا جاری کرنے یا اپنی تقریر میں ایران کے خلاف شدید حملے کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بیماری کے باعث ٹرمپ رویے میں الجھن اور تذبذب کا شکار ہیں۔
عطوان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات پر ایرانی صدر کے جواب کو ’’دندان شکن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے تمام دہشت گردانہ جرائم کے جامع اعداد و شمار پیش کیے، جن کا سلسلہ غزہ میں نسل کشی سے لے کر ایران میں قتل و غارت اور جرائم، انقلابِ اسلامی ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے قتل کی سازش اور جنوبی ایران کے شہر میناب میں 150 سے زائد طالب علم لڑکے اور لڑکیوں کو شہید کرنے تک جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی گستاخیوں اور ٹرمپ کی سیاسی و فوجی حماقتوں پر ایران کا عملی جواب آنے والے دنوں میں میدانِ جنگ میں سامنے آسکتا ہے۔
اس حقیقت کی تصدیق کرنے والے دو اہم اشارے موجود ہیں:
اول: رہبرِ انقلابِ اسلامی سید مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر امریکہ کا کوئی بھی حملہ جنگ کے جغرافیے کو وسیع کرسکتا ہے۔ یہ جنگ صرف آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ بحرِ ہند تک پھیل سکتی ہے؛ جس طرح یہ بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور اس کے اطراف اور بحیرۂ عرب تک پھیل چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی اڈے، بحری جہاز اور طیارہ بردار بحری بیڑے جدید اور پیشرفتہ بیلسٹک میزائلوں سے حملے کے جائز اہداف ہوں گے۔
دوم: ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی کے بیانات ہیں، جن میں سب سے اہم بات ایران کی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں میں اسٹریٹجک تبدیلیاں لانے کا اعلان اور یہ مؤقف تھا کہ جب تک امریکہ عملی طور پر طے پانے والے معاہدوں پر عمل نہیں کرتا، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی ملک ایرانی طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کرنے یا اقتصادی جنگ میں شامل ہوگا، اسے دشمن تصور کیا جائے گا اور اسی درجہ بندی کے مطابق اس کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا۔
عطوان نے اپنے مضمون میں مزید کہا کہ فوجی لباس میں گفتگو کرنے والے میجر جنرل رضائی نے امریکہ اور اس کے صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ اس جنگ میں ایران کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، لیکن عملی طور پر اس نے ایران کو دنیا کی چوتھی طاقت بنا دیا۔‘‘ ایران عسکری تاریخ میں وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس کے فضائی دفاع نے ایف-35 جیسے اسٹیلتھ طیاروں اور جاسوسی و نگرانی کے شعبے میں انتہائی جدید آواکس طیاروں کو مار گرایا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پوری دنیا اب امریکہ کو ایسی سپر پاور کے طور پر نہیں دیکھتی جس پر اعتماد کیا جاسکے اور جس کی حمایت پر بھروسہ کیا جاسکے۔
عطوان نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ سات ماہ کی امریکی۔صیہونی جارحیت نے ہمیں سکھایا کہ ایران اپنی بات پر عمل کرتا ہے۔ اسی لیے ایران ڈٹا رہا اور اس نے جارحین پر پے در پے شکستیں مسلط کیں؛ ایسی شکستیں جن کا اعتراف امریکی فوجی اور اسٹریٹجک ماہرین بھی کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سینٹ کام (امریکی فوج کی مرکزی کمان) کے اعلیٰ جنرل اب نہ صرف آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سے نکلنے، بلکہ نقصانات کم کرنے کے لیے پورے خطے سے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس، جو گزشتہ منگل سے شروع ہوا، ٹرمپ کی حماقتوں اور ان کے ایک بیمار اور بے ہوش مسخرے کے طور پر رویے کو بے نقاب کرنے، نیز صیہونی حکومت اور اس کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو دہشت گردی اور نسل کشی کے منبع کے طور پر تنہا کرنے کے حوالے سے تاریخ میں درج ہوگا۔
آپ کا تبصرہ